Tuesday, October 30, 2018

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے
عشق میں ہر کوئی استاد بنا پھرتا ہے
جس سے تعبیر کی اک اینٹ اٹھائی نہ گئی
خواب کے شہر کی بنیاد بنا پھرتا ہے
پہلے کچھ لوگ پرندوں کے شکاری تھے یہاں
اب تو ہر آدمی صیاد بنا پھرتا ہے
دھوپ میں اتنی سہولت بھی غنیمت ہے مجھے
ایک سایہ مرا ہم زاد بنا پھرتا ہے
باغ میں ایسی ہواؤں کا چلن عام ہوا
پھول سا ہاتھ بھی فولاد بنا پھرتا ہے
نقش بر آب تو ہم دیکھتے آئے لیکن
نقش یہ کون سا برباد بنا پھرتا ہے

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں


کوئی میرا امام تھا ہی نہیں
میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں
تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے
اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں
جس قدر شور آب و گل تھا یہاں
اس قدر اہتمام تھا ہی نہیں
اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے
اس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں
ہم نے اس وقت بھی محبت کی
جب محبت کا نام تھا ہی نہیں
تو کہاں راستے میں آ گئی ہے
زندگی تجھ سے کام تھا ہی نہیں
وقت نے لا کھڑا کیا اس جا
جو ہمارا مقام تھا ہی نہیں
اس لیے خاص کر دیا گیا عشق
عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں

Featured Post

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں