Tuesday, October 30, 2018

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں


کوئی میرا امام تھا ہی نہیں
میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں
تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے
اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں
جس قدر شور آب و گل تھا یہاں
اس قدر اہتمام تھا ہی نہیں
اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے
اس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں
ہم نے اس وقت بھی محبت کی
جب محبت کا نام تھا ہی نہیں
تو کہاں راستے میں آ گئی ہے
زندگی تجھ سے کام تھا ہی نہیں
وقت نے لا کھڑا کیا اس جا
جو ہمارا مقام تھا ہی نہیں
اس لیے خاص کر دیا گیا عشق
عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں

No comments:

Post a Comment

Featured Post

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں