بات دل کو مرے لگی نہیں ہے
میرے بھائی یہ شاعری نہیں ہے
جانتی ہے مرے چراغ کی لو
کون سے گھر میں روشنی نہیں ہے
جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہےاتنا پانی تو مری اوک میں بھر سکتا ہے
یہ تو میں روز کنارے پہ کھڑا سوچتا ہوںپیاس بڑھ سکتی ہے دریا بھی اتر سکتا ہے