Monday, November 26, 2018

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے
میرے بھائی یہ شاعری نہیں ہے
جانتی ہے مرے چراغ کی لو
کون سے گھر میں روشنی نہیں ہے

میں جوقصہسناچکاتوکھلا
کوئی دیوار بولتی نہیں ہے
دیکھنےوالیآنکھ بھیتوہو
کون دریا میں جل پری نہیں ہے
بزدلا چھپ کے وار کرتا ہے
تجھ کو تہذیب دشمنی نہیں ہے
کیا کروں اس بہشت کو جس میں
ایک بوتل شراب کی نہیں ہے
تجھ سے ملنا بھی ہے نہیں بھی مجھے
اور طبیعت الجھ رہی نہیں ہے
کون سے شہر کے چراغ ہو تم
تم میں دم بھر کی روشنی نہیں ہے
جس کا چرچا ہے شہر میں عامیؔ
وہ غزل تو ابھی کہی نہیں ہے

No comments:

Post a Comment

Featured Post

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں